ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا خطرناک کھیل آخر کب تک؟:مولانا ارشد مدنی

مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا خطرناک کھیل آخر کب تک؟:مولانا ارشد مدنی

Mon, 21 Jun 2021 11:20:11    S.O. News Service

نئی دہلی،21؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) حالیہ دنوں ہی میں ہریانہ کے میوات، دہلی سے متصل غازی آباد کے لونی میں اور ملک کے بعض دوسرے مقامات پر ماب لنچنگ اور مساجد کی شہادت اور بے حرمتی کے افسوسناک واقعات پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ مذہبی منافرت ملک کو ترقی نہیں تباہی کے راستہ پر لے جارہی ہے۔ جاری اپنے ایک بیان میں ملک کے موجودہ نفرت کے ماحول پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر ملک بھر میں جو خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے، اس سے سماجی طور پر نفرت کی خلیج مزید گہری ہوتی جارہی ہے اور ایک بار پھر خوف ودہشت کا ماحول تیار ہو رہا ہے، جس کی نحوست سے ملک ہمہ جہت تنزل کا شکار ہے اور یہ صرف اور صرف تباہی کا راستہ کا ہے۔

انہوں نے کہاکہ الیکشن کے قریب آتے ہی ایک بار پھر نفرت کا کھیل شروع ہوگیا اور ایک مخصوص نظریہ کے لوگ پولیس کے زیر سایہ پرانی مسجدوں اور نہتے مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر اپنا نشانہ بنانے لگے یہاں تک کہ بزرگوں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے، ان کی داڑھی کاٹی جارہی ہے، بزرگ کے ساتھ یہ معاملہ شر پسندوں نے مذہبی منافرت پھیلانے کیلئے کیا جو افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ سچائی پوری طرح اجاگر ہوگئی ہے کہ جب بھی کوئی الیکشن قریب ہوتاہے، اچانک ایک مخصوص طبقہ شر انگیزی اور مذہی منافرت کو ہوا دینے میں مصروف ہو جاتا ہے، مطلب صاف ہے کہ کچھ لوگ سماج میں فرقہ وارانہ حد بندی قائم کرکے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، یعنی تمام واقعات سیاسی بنیاد پر کئے جارہے ہیں، ان لوگوں کے نزدیک نہ تو ملک کے آئین کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی انسانی جذبوں کی، جبکہ ملک ایک بڑے اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔

انھوں نے اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ جو لوگ ملک میں نفرت پھیلاتے ہیں، تشدد برپا کرتے ہیں ان کی گرفت نہیں ہوتی بلکہ کچھ لوگ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ان کا دفاع کرتے ہیں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ شدت پسند لوگوں کو کسی نہ کسی طور پر سیاسی پشت پناہی حاصل ہے شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس بھی ان لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراتی ہے، اور ایسا کرنے والوں کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا، اسی لئے ماب لنچنگ کرنے والے شر پسند گروہ بے خوف وخطر دہشت گرانہ عمل کو انجام دیتے ہیں، کیونکہ ان کو یقین ہے کہ ہماری سرپرستی کرنے والے اقتدار میں موجود ہیں، جس کی وجہ سے قتل کرنے کے باوجود بھی ان پر ایسی دفعات لگائی جاتی ہیں جس سے ان کی آسانی سے ضمانت ہو جاتی ہے۔مولانا مدنی نے انتباہ کیا کہ ابھی وقت ہے کہ اس مذموم سلسلہ کو بند کیا جائے اور مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ صف بندی کی جگہ اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور نوکریوں کی بات ہونی چاہئے اور مل بیٹھ کر ملک کو تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی جانی چاہئے، انھوں نے یہ بھی کہاکہ پچھلے کچھ سالوں سے نفرت کی جو سیاست ہورہی ہے اس کے بھیانک نتائج سامنے آنے لگے ہیں، اگر اب بھی حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلیں تو پھر ملک تنزلی کی جس خطرناک راہ پر چل پڑے گا وہاں سے واپس لانا مشکل ہوجائے گا۔


Share: